2۔ تحریکِ علی گڑھ اور سر سید احمد خان (Aligarh Movement)
کے قیام پر ختم ہوتی ہے۔ اس سفر میں مسلمانوں نے اپنی شناخت اور ایک الگ وطن کے لیے جو جدوجہد کی، اس کے اہم مراحل درج ذیل ہیں:
انگریز حکومت نے مسلمانوں کے مطالبے کو مانتے ہوئے کے اصول کو تسلیم کیا۔ 7. لکھنؤ پیکٹ (1916ء)
دنیا کے نقشے پر "پاکستان" ایک آزاد، خود مختار اور نظریاتی اسلامی ریاست کی حیثیت سے ابھرا، اور قائدِ اعظم محمد علی جناح اس کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
مسلمانوں اور برطانوی حکومت کے درمیان خلیج کو کم کرنا اور مسلمانوں کو جدید انگریزی تعلیم کی طرف راغب کرنا۔
مسلم لیگ نے مرکزی اسمبلی کی تمام مسلم نشستیں اور صوبائی اسمبلیوں میں ۸۷٪ سے زائد مسلم نشستیں جیت کر ثابت کر دیا کہ وہ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے اور مسلمان صرف پاکستان چاہتے ہیں۔
لارڈ کرزن نے انتظامی سہولت کے لیے بنگال کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔ مشرقی بنگال میں مسلم اکثریت تھی، جس سے مسلمانوں کو فائدہ ہوا۔ ہندوؤں نے اس کی شدید مخالفت کی اور "سودیشی تحریک" شروع کی۔ 2۔ تحریکِ علی گڑھ اور سر سید احمد
ہندوؤں نے پہلی بار مسلمانوں کے جداگانہ طریقہ انتخاب کے حق کو تسلیم کیا۔ اس معاہدے کی وجہ سے قائدِ اعظم کو "سفیرِ ہند-مسلم اتحاد" کا خطاب ملا۔ ۸. تحریکِ خلافت (۱۹۱۹ء)
۹. نہرو رپورٹ (۱۹۲۸ء) اور قائدِ اعظم کے چودہ نکات (۱۹۲۹ء)
یہ 1857ء سے 1947ء تک پاکستان کی تاریخ (تحریک پاکستان) پر ایک تفصیلی مضمون ہے۔ history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
تحریکِ علی گڑھ اور سر سید احمد خان (1857ء - 1898ء)
پہلی جنگِ عظیم میں ترکی کی شکست کے بعد برصغیر کے مسلمانوں نے خلافتِ عثمانیہ اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی قیادت میں ایک عظیم تحریک چلائی۔ گاندھی نے بھی اس تحریک کی حمایت کی۔
پاکستان کی تاریخ کو سمجھنا ہمیں اس ملک کی پیچیدگیوں اور چیلنجوں کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم نے 1857 سے 1947 تک کی پاکستان کی تاریخ پر ایک نظر ڈالی ہے۔